صاحب تقوی

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - تقوے والا، پرہیزگار، متقی، پارسا، نیکو کار۔ "اللہ کی نظر میں عزت والے وہ ہیں جو صاحبِ تقویٰ ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ١٦٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'صاحب' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'تقویٰ' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٥ء کو "روشنی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تقوے والا، پرہیزگار، متقی، پارسا، نیکو کار۔ "اللہ کی نظر میں عزت والے وہ ہیں جو صاحبِ تقویٰ ہیں۔"      ( ١٩٨٥ء، روشنی، ١٦٥ )